Monday, 2 March 2015

زمبابوے کے خلاف پاکستانی بلے باز 235 رنز ہی بنا سکے


آسٹریلوی شہر برسبین میں کرکٹ کے 11ویں عالمی کپ کے پول بی کے میچ میں پاکستان نے زمبابوے کو فتح کے لیے 236 رنز کا ہدف دیا ہے۔
پاکستانی بیٹنگ اس میچ میں ایک بار پھر ناکام رہی اور زمبابوے جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے سامنے شدید مشکلات کا شکار نظر آئی۔
مصباح الحق کے سوا کسی پاکستانی بلے باز نے بھی وکٹ پر ٹھہر کر ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی کوشش نہیں کی اور آخر میں وہاب ریاض کی جارحانہ اننگز کی بدولت ہی پاکستان سات وکٹوں پر 236 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکا۔
وہاب نے 46 گیندوں پر 54 رنز کی انتہائی اہم اننگز کھیلی۔
کپتان مصباح الحق نے سست روی سے بلے بازی کی اور 46ویں اوور 121 گیندوں پر 73 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں ان کی 40ویں نصف سنچری تھی۔
اس میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستانی اوپنرز ایک بار پھر ٹیم کو اچھا آغاز نہ دے سکے۔

زمبابوے کے فاسٹ بولروں ابتدا میں انتہائی نپی تلی بولنگ کی

ویسٹ انڈیز کے خلاف صفر پر آؤٹ ہونے والے ناصر جمشید اور احمد شہزاد اس میچ میں بھی ناکام رہے اور چتارا کے پہلے دو اوورز میں پویلین لوٹ گئے۔
دوہرے نقصان کے بعد مصباح الحق اور حارث سہیل نے انتہائی محتاط انداز اپنایا اور 15 اوورز میں 52 رنز کی شراکت قائم کی۔
پاکستان نے اپنے ابتدائی دس اوورز میں صرف 14 رنز بنائے جو سنہ 2001 کے بعد کسی میچ میں ابتدائی دس اوورز میں پاکستان کا دوسرا کم سے کم سکور ہے۔
پاکستان کو تیسرا نقصان اس وقت اٹھانا پڑا جب زمبابوے کے پاکستانی نژاد سپنر سکندر رضا نے اپنے پہلے اوور کی پہلی گیند پر حارث کو کیچ کروا دیا۔ انھوں نے 27 رنز بنانے کے لیے 44 گیندیں استعمال کیں۔
حارث کے جانے کے بعد عمر اکمل کریز پر آئے اور مصباح کے ساتھ مل کر 69 رنز کی شراکت قائم کی۔
تاہم وہ ایک بار پھر وکٹ پر رک کر بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور شان ولیمز نے پہلے انھیں اور پھر دو گیندوں بعد شاہد آفریدی کو بولڈ کر کے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔

مصباح الحق نے سست روی سے بلے بازی کی اور 46ویں اوور 121 گیندوں پر 73 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

صہیب مقصود نے بھی آغاز تو اچھا کیا لیکن پھر وہی ہوا جو اب تک اس ورلڈ کپ میں ہوتا آیا ہے۔ وہ 17 گیندوں پر 21 رنز بنانے کے بعد موپاریوا کو ان کی گیند پر ہی کیچ دے بیٹھے۔
زمبابوے کی جانب سے چتارا تین اور شان ولیمز دو وکٹوں کے ساتھ نمایاں بولر رہے۔
اس میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور آؤٹ آف فارم بلے باز یونس خان کی جگہ صرف ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کا تجربہ رکھنے والے فاسٹ بولر راحت علی کو ٹیم میں جگہ ملی ہے۔
پاکستانی ٹیم دو میچوں میں شکست کے بعد تاحال اس ورلڈ کپ میں فتح کی متلاشی ہے۔
بھارت نے پاکستان کو پہلے میچ میں 76 رنز اور ویسٹ انڈیز نے 150 رنز سے ہرایا تھا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات پول بی میں دو ایسی ٹیمیں ہیں جن کا ابھی تک کوئی پوائنٹ نہیں ہے۔

No comments:

Post a Comment