روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ وہ اپنے ناقد اور ملک میں حزبِ اختلاف کے سرکردہ رہنما بورس نیمتسوو کی ہلاکت میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
ماسکو میں ہزاروں افراد نے کریملن کے قریب اس مقام پر پھول رکھے اور شمعیں روشن کی ہیں جہاں جمعے کو بورس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اتوار کو ماسکو میں ان کی یاد میں ایک ریلی بھی نکالی جا رہی ہے۔ حزبِ اختلاف نے اتوار کو پہلے حکومت مخالف ریلی کا اعلان کیا تھا تاہم بورس کی ہلاکت کے بعد اسے ایک تعزیتی ریلی کی شکل دے دی گئی ہے۔
روسی صدر پوتن نے بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو نفرت انگیز اور ان کے قاتلوں کو حقیر قرار دیا۔
صدر نے اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا فیصلہ بھی کیا ہے تاہم بورس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کی وجوہات سیاسی ہیں اور اس کا تعلق ولادیمیر پوتن کی مخالفت اور یوکرین کے تنازع سے ہی ہے۔
روسی صدر کی جانب سے بورس نیمتسوو کی 86 سالہ والدہ ڈائنا ایڈمین کو بھیجے جانے والے ٹیلی گراف میں انھوں نے تعزیت کرتے ہوئے نیمتسور کی ایمانداری اور کھلے پن کی تعریف کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’برائے مہربانی اپنے ناقابل واپسی نقصان پر دل کی گہرائی سے میری تعزیت قبول کریں، میں پورے خلوص سے آپ کے غم میں شریک ہوں۔‘
روسی صدر کے مطابق’ بورس نیمتسوو نے روس کی تاریخ، سیاست اور عوامی زندگی پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ ملک میں تبدیلی کے اہم موقعے پر وہ قابل ذکر عہدوں پر فائز رہے۔ انھوں نہ ہمیشہ اپنے خیالات کا اظہار کھلے عام اور ایمانداری سے کیا۔‘
امریکہ اور یوکرین کے صدور نے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے بھی بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔
یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو نے اپنے پیغام میں بورس نیمتسوو کو روس اور یوکرین کے درمیان پل قرار دیا۔
برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس واقعے کو افسوسناک اور پریشان کن قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی فوری، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ’ملک میں کھلے عام تنقید کرنے والوں میں سے ایک اور جنھیں حکام خاموش کرانا چاہتے تھے میں سے ایک کے ظالمانہ انداز میں قتل کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔‘
بورس نیمتسوو روسی صدر کے بڑے ناقدین میں سے تھے اور حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یوکرین میں جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ولادیمیر پوتن انھیں مروا سکتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل انھوں نے روس کی ایک نیوز ویب سائٹ سوبیسدنک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے اور 10 فروری کو ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ پوتن مجھے مروا دے گا۔
انھوں نے لکھا ’میں سمجھتا ہوں کہ وہ ان افراد میں سے ہیں جنھوں نے یوکرین پر جنگ مسلط کی میں اس پر انھیں کیوں نہ ناپسند کروں۔‘
نیمتسوو کی عمر 55 سال تھی اور سابق صدر بورس یلسن کے تحت نائب وزیراعظم رہ چکے تھے۔
ان کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ واضح اختلافات سامنے آئے اور وہ ان کے ایک بے باک مخالف کے طور پر ابھرے تھے۔

No comments:
Post a Comment