Saturday, 28 February 2015

ماسکو: روسی صدر کے ناقد سیاستدان قاتلانہ حملے میں ہلاک

روسی پولیس کے مطابق ایک نامعلوم حملہ آور نے نیمتسوو کو مرکزی ماسکو میں چار گولیاں ماریں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں جمعے کو کریملن کے قریب اس وقت گولی ماری گئی جب وہ پل عبور کر رہے تھے اور وہ اس حملے کے چند گھنٹے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
ہلاکت سے قبل انھوں نے اپنے ساتھیوں سے اتوار کو ماسکو میں ہونے والے اس مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی جو یوکرین میں جنگ کے خلاف منعقد کیا جا رہا ہے۔
روسی صدر کے دفتر کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے بورس کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔
صدر پوتن کے ایک ترجمان دمیتری پیشکوو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیشہ ور قاتلوں کا کام لگتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر نے اس معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکہ کے صدر براک اوباما نے بھی بورس نیمتسوو کی ہلاکت کو ظالمانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے کی فوری، غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔
بورس نیمتسوو روسی صدر کے بڑے ناقدین میں سے تھے اور حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یوکرین میں جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ولادیمیر پوتن انھیں مروا سکتے ہیں۔
روسی حزبِ اختلاف کے رہنما ایلیا یاشین اور کسینیا سوبچک نیموستوو کے قتل کی خبر سننے کے بعد
نیمتسوو کی عمر 55 سال تھی اور سابق صدر بورس یلسن کے تحت نائب وزیراعظم رہ چکے تھے۔
وہ ایک معاشی اصلاحات کے ماہر کے طور پر جانے جاتے تھے جب وہ روس کے سب سے بڑے شہر نزنی نووگروڈ کے گورنر کے طور پر کام کرتے تھے۔
بعد میں ان کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ واضح اختلافات سامنے آئے اور وہ ان کے ایک بے باک مخالف کے طور پر ابھرے۔
اُن کی سیاسی جماعت کی رکن الیا یاشن نے اُن کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ ’بدقسمتی سے میں بورس نیمتسوو کی لاش اپنے سامنے دیکھ سکتی ہوں بولشوئی زموسکوورکی پل پر۔ میں لاش اور اس کے آس پاس بہت سارے پولیس اہلکاروں کو دیکھ سکتی ہوں۔‘
اپنی آخری ٹویٹ میں نیمتسوو نے روس کی منتشر حزبِ اختلاف کو اتوار کے دن جنگ کے خلاف اُن کی ریلی میں شرکت کےلیے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔
انہوں نے نے لکھا تھا کہ ’اگر آپ روس کی یوکرین کے ساتھ جنگ کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں، اگر آپ پوتن کی جارحیت کو روکنے کی حمایت کرتے ہیں تو مریانو میں سپرنگ مارچ میں یکم مارچ کو ضرور شرکت کریں۔‘
انہوں نے روس کی ایک نیوز ویب سائٹ سوبیسدنک سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اپنی جان کا خطرہ ہے اور 10 فروری کو ایک مضمون میں انہوں نے لکھا کہ مجھے ڈر ہے کہ پوتن مجھے مروا دے گا۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ وہ اُن افراد میں سے ہیں جنہوں نے یوکرین پر جنگ مسلط کی میں اس پر انہیں اس پر انہیں کیوں نہ ناپسند کروں۔‘

No comments:

Post a Comment