امریکی عدالت نے پاکستانی شہری کو دہشت گرد وں کو حملوں کے لیے عملی امداد اوردھماکہ خیز مواد مہیا کرنے کا مجرم قرار دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عابد نصیر ان افراد میں شامل تھے جنہیں 2009میں برطانیہ میں شاپنگ سینٹر میں کو نشانہ بنانے کی سازش میں گرفتار کیا گیاتھا لیکن ناکافی شہادتوں کے باعث برطانوی عدالت نے مقدمہ ختم کر کے امریکاکے حوالے کر دیا تھا۔امریکی 12رکنی جیوری نے پاکستانی شہری عاب نصیر پر برطانیہ میں القاعدہ کا سیل چلانے کے علاوہ مانچسٹر اور نیویارک حملوں کے لیے القاعدہ کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام کی سماعت کی ۔کیس کی سماعت کے دوران وکیل استغاثہ نے کہا کہ عابد نصیر القاعدہ کی اس سازش میں ملوث تھا جس کے تحت مانچسٹر اور نیویارک کے زیر زمین ریلوے سمیت کئی جگہوں پر بم دھماکے کئے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی ای میلز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عابد نصیر اور ان کے 2 ساتھی القاعدہ کے کسی رکن سے رابطے میں تھے۔
سماعت کے دوران کمرہ عدالت میںبرطانوی انٹیلی جنس کے 6 افسران بطور گواہ جیوری کے سامنے پیش ہوئے اس کے علاوہ ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ سے ملنے والے کاغذات کو بھی پہلی بار کسی عدالت میں بطور شہادت پیش کیاگیا۔ اس موقع پر عابد نصیر نے خود پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ برطانیہ تعلیم حاصل کرنے گئے تھے دہشت گردی کرنے نہیں۔ شواہد کی روشنی میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا القاعدہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق تھا۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد امریکی جیوری نے عابد نصیر کو دہشت گردوں کی عملی مدد اوردھماکے کے لئے دھماکا خیز مواد مہیا کرنے کا مجرم قرار دیا تاہم ان کی سزا کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

No comments:
Post a Comment